ٹوکیو،25جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)30سالہ کیئسنوساتو 1998 کے بعد پہلے جاپان میں پیدا ہونے والے سومو ریسلر ہیں جن کو یوکوزونا کا خطاب ملا ہے۔تقریباٌ دو دہائی کے وقفے کے بعد پہلی بار جاپان میں پیدا ہونے والے کسی کھلاڑی کو سومو ریسلنگ کا سب سے بڑا اعزاز ”یوکوزونا“ ملا ہے۔30سالہ کیئسنوساتو کو یہ اعزاز اس سال کا پہلا ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد ملا ہے۔ کیئسنوساتو سے پہلے 1998میں واکانوہانا آخری جاپانی ریسلر تھے جنھوں نے یوکوزونا کا خطاب جیتا تھا۔اس عرصے میں امریکن سمؤوا اور منگولیا کے پانچ ریسلروں کو یہ خطاب مل چکا ہے۔ٹوکیو کے شمال میں واقع ابراکی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے کیئسنوساتو کا وزن 178کلو گرام ہے۔ وہ 2012سے یوکوزونا سے ایک درجہ نیچے کے رینک پر تھے جسے اوزیکی کہا جاتا ہے۔متعدد بار مقابلوں میں دوسرے نمبر پر آنے کے بعد انھوں نے اس سال کے پہلے ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کر کے یوکوزونا رینک تک رسائی حاصل کر لی۔جاپان کی سومو ریسلنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے اعزاز حاصل کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کیئسنوساتو نے کہا کہ میں بہت عاجزی کے ساتھ یہ اعزاز قبول کرتا ہوں۔ میں خود کو مکمل طور پر اس کردار میں ڈھال لوں گا اور اپنی پوری کوشش کروں گا کے اس خطاب کو بدنام نہ کروں۔کیئسنوساتو، جن کا حقیقی نام یوتاکا ہاگی وارا ہے، کے علاوہ اس وقت منگولیا سے تعلق رکھنے والے تین اور ریسلر یوکوزونا کے درجے پر فائز ہیں۔بچپن میں کیئسنوساتو اپنے سکول میں بیس بال کے کھلاڑی تھے لیکن بعد میں انھوں نے سومو میں حصہ لینے کے لیے تربیت شروع کر دی۔2002میں انھوں نے اپنے پہلے سومو کے مقابلے میں شرکت کی اور جاپان کے اخبار مائینیچی کے مطابق وہ 73ٹورنامنٹس میں شرکت کے بعد یوکوزونا بنے ہیں۔
پیر کو ٹورنامنٹ میں فتح کے بعد کیئسنوساتو نے کہا کہ وہ ایمپرر کپ ٹرافی اٹھا کر بے حد خوشی محسوس کر رہے ہیں۔'میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ بتا سکوں مجھے کس قدر خوشی ہے یہ جیت کر لیکن اس ٹرافی کا وزن کافی ہے۔حالیہ برسوں میں جاپان میں سومو کی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ اس کھیل کی سخت ٹریننگ ہے اور کچھ عرصے سے غیر ملکی ممالک کے ریسلرز کا پلہ بھاری ہے۔2009میں ایک سومو کوچ کو ٹریننگ میں سختی کرنے کی وجہ سے چھ سال جیل ہوگئی تھی کیونکہ ان کے احکامات کے وجہ سے ایک نئے سومو ریسلر کی موت واقع ہو گئی تھی۔اس کھیل کی تربیت میں کھلاڑیوں کے کیے مخصوص اکھاڑے بنائے جاتے ہیں جہاں وہ کھانا، پینا، سونا اور تربیت حاصل کرنا سب کرتے ہیں۔سومو ریسلنگ کے کھلاڑیوں کو معاشرے میں بہت عزت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے رویے کی سخت جانچ کی جاتی ہے۔جاپان میں کم ہوتی مقبولیت کے باوجود دوسرے ملکوں میں سومو کو کافی پزیرائی مل رہی ہے اور منگولیا، ایسٹونیا، بلغاریہ، چین اور کئی دوسرے ممالک کے ریسلر شوق سے اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔